دارالافتاء

والد کا بالغہ کا نکاح کرانا اور لڑکی کا سکوت اختیار کرنا

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص نے اپنے بیٹے کا نکاح دوست کی بیٹی سے کیا اور وہ بالغ تھے، اور ان کو ایک ہفتے بعد معلوم ہوا کہ ہمارا نکاح ہوا ہے، اس وقت صراحتار ضامندی کا اظہار نہیں کیا، لیکن کچھ مدت بعد دونوں نے کال پر باتیں شروع کی، باتوں میں کچھ آگے بڑھے، تو لڑکے نے طلاق دیدی، معلوم یہ کرنا ہے کہ آیا یہ مذکورہ نکاح ہوا ہے یا نہیں؟ اور کیا یہ طلاق معتبر ہو گی۔

جواب

واضح رہے کہ جب بالغہ لڑکی کا نکاح اس کا والد کرادے جس پر وہ سکوت اختیار کرلے، تو اس کا سکوت رضامندی شمار ہو گا، اور یہ نکاح منعقد ہو جائے گا، لہذا صورت مسئولہ میں مذکورہ شخص کے بیٹے اور دوست کی بیٹی کو جب نکاح کی خبر پہنچی، تو کسی نے بھی انکار نہیں کیا، بلکہ سکوت اختیار کیا اور کچھ مدت بعد دونوں نے کال پر باتیں شروع کیں، تو یہ بھی ان کی رضامندی کی علامت ہے، لہذا یہ نکاح ہو چکا ہے، اور اس دوران دی گئی طلاق کا بھی اعتبار ہو گا۔ لما في التنوير مع الدر والرد: ’’(ولا تجبر البالغة البكر على النكاح) لإنقطاع الولاية بالبلوغ (فإن استأذنھا هو) أي: الولي وهو السنة (أو وكيله أو رسوله أو زوجھا) وليھا وأخبرها رسوله أو فضولي عدل (فسكتت) عن رده مختارة (أو ضحكت غير مستھزئة أو تبسمت أو بكت بلا صوت فھو إذن) وإن لم تعلم أنه إذن‘‘. (كتاب النكاح، باب الولي: 155/4، رشيدية) وفي الھداية: ’’(ولا يجوز للولي إجبار البكر البالغة على النكاح) وإذا استأذنھا الولي فسكتت أو ضحكت فھو إذن‘‘.(كتاب النكاح، باب في الأولياء والأكفاء: 2/28، دالدقاق) وفي مجمع الأنھر: ’’وكذا لو زوجھا فبلغھا الخبر وشرط فيھما تسمية الزوج لا المھر ھو المصحيح‘‘. (كتاب النكاح: 49/1، الحبيبية) وفي التنوير مع الدر: ’’(ومحله المنكوحة) وأھله زوج عاقل بالغ مستيقظ‘‘. (كتاب الطلاق، مطلب: طلاق الدورة: 419/4، رشيدية). فقط.واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب.

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی

فتویٰ نمبر: