دارالافتاء

شوہر کو خوش کرنے کی خاطر اس کے سامنے سجدہ کرنا

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ چند دن قبل میاں بیوی کے جھگڑے کے دوران میری بیوی نے کہا کہ تم سجدہ کرنے سے خوش ہو گے اس لیے میں تمہیں سجدہ کرتی ہوں اور تمہارے سب گھر والوں کو بھی سجدہ کروں گی، اور پھر میرے سامنے سجدہ میں گر گئی اور کہنے لگی اب تو خوش ہو جاؤ میں نے تمہیں سجدہ کر دیا مادر میری چھوٹی بہن کو کہنے لگی کہ باپ (شوہر) کو سجدہ کرنا پڑتا ہے جس طرح اللہ کو سجدہ کرتے ہیں۔ میں نے بیوی سے پوچھا کہ تم نے مجھے سجدہ خدا سمجھ کر کیا ہے یا کیانیت تھی؟ تو انھوں نے کہا کہ میری نیت اللہ جانتا ہے، مگر تم سجدہ چاہتے ہو اس لیے تمہیں خوش کرنے کے لیے سجدہ کیا ہے۔ صورت مسئولہ میں میری بیوی کے سجدہ کرنے اور ذکر کردہ الفاظ کہنے سے ہمارا نکاح ختم تو نہیں ہوا؟ ہمیں تجدید نکاح کرنے کی ضرورت ہے یا نہیں؟ شریعت کے اعتبار سے رہنمائی فرمائیں، جزاکم اللہ خیرا وضاحت: شوہر سے رابطہ کرنے پر انہوں نے بتایا کہ بیوی سے سجدہ کرنے کا نہ کبھی میں نے کہا ہے اور نہ ہی میں ایسا سوچ سکتا ہوں۔ بیوی سے رابطہ کرنے پر انہوں نے بتایا کہ کسی وجہ سے شوہر مجھ سے ناراض ہو گئے تھے، اور وہ پاؤں پڑ کر معافی مانگنے پر مصر تھے، تو اس ناراضگی کو ختم کرنے، شوہر خوش کرنے اور معافی مانگنے کی نیت سے میں نے یہ عمل کیا، بیوی کے بقول وہ اور اس کے شوہر دونوں ایک دینی ادارےکے فاضل ہیں۔

جواب

صورت مسئولہ میں آپ کی بیوی کی یہ حرکت انتہائی بری اور گری حرکت ہے، اور بہت بڑے گناہ کا ارتکاب کیا ہے، اللہ تعالی کی ذات کے علاوہ کسی اور کو سجدہ کرنا کسی نیت سے بھی جائز نہیں، اس پر توبہ واستغفار لازم ہے، البتہ آپ کے سامنے سجدہ کرنے کا مقصد اگر اس کا آپ کو خوش کرنا اور اپنے فرماں بردار ہونے کو ثابت کرنا تھا، اور اس سجدہ سے نہ تو وہ اسلام سے نکلی ہے اور نہ نکاح ختم ہوا ہے، تاہم احتیاط تجدید ایمان و نکاح کریں تو بہتر ہے، نیر خاوند پر بھی لازم ہے، کہ وہ ایسے رویہ سے توبہ کر لیں جس سے بیوی اس حد تک مجبور ہو جائے، خاص کر جب میاں بیوی دونوں صاحب علم ہوں، تو ایک دوسرے کے حقوق کا زیادہ خیال رکھنا چاہئے۔ لما في التنوير مع الدر: ’’(وكذا) ما يفعلونه من تقبيل (الأرض بين يدي العلماء) والعظماء فحرام، والفاعل والراضي به آثمان لأنه يشبه عبادة الوثن، وهل يكفر؟ إن على وجه العبادة والتعظيم كفر، وإن على وجه التحية لا، وصار آنھا مرتكبا للكبيرة‘‘. وتحته في الرد: ’’ قوله: إن على وجه العبادة أو التعظيم كفر إلخ تلفيق لقولين، قال الزيلعي: وذكر الصدر الشھيد أنه لا يكفر بھذا السجود لأنه يريد به التحية‘‘. (كتاب الحظر والإباحة، باب الاستبراء، 632/9، رشيدية) وفي سنن الترمذي: حدثنا محمود بن غيلان حدثنا النضر بن شميل أخبرنا محمد بن عمرو عن أبي سلمة عن أبي هريرة: عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: ’’لو كنت آمرا أحدا أن يسجد لأحد لأمرت المرأة أن تسجد لزوجھا‘‘. (باب ما جاء في حق الزوج على المرأة، ص:370، رقم الحديث:1159، رشيدية) وفي روح المعاني: ’’(وإذ قلنا للملائكة) وفي المعنى المأمور به هنا خلاف فقيل: المعنى الشرعي والمسجود له في الحقيقة هو الله تعالى وآدم إما قبله أو سبب ومن الناس من جوز كون المسجود له آدم عليه السلام حقيقة مدعيا أن السجود للمخلوق إنما منع في شرعنا‘‘. (سورة البقرة، 107/34، مؤسسة الرسالة). فقط.واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب.

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی

فتویٰ نمبر: