دارالافتاء

نماز کے فوراً بعد اونچی آواز میں کلمہ طیبہ پڑھنا یا وِرد کرنا

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کچھ مساجد میں نماز کے فوراً بعد اونچی آواز میں کلمہ شریف یا وِرد شروع کردیتے ہیں جب کہ کچھ لوگ نماز ادا کر رہے ہوتے ہیں ایسی صورت میں اونچی آوز سے کلمہ طیبہ کا ذکر کرنا سنت کے مطابق ہے یا نہیں، نیز اس کے بعد اونچی آوز سے دعا کرنا سنت کے مطابق ہے یا نہیں؟

جواب

مذکورہ طریقے پر فرض نمازوں کے بعد بلند آواز سے ذکر کرنا اور اس کو لازم سمجھنا بدعت اور ناجائز ہے، البتہ انفرادا کسی علیحدہ مجلس میں بغیر التزام کے ذکر بالجہر کرنے میں حرج نہیں، نیز جن نمازوں کے بعد سنتیں ہیں ان کے بعد مختصر دعا جیسے: اللھم انت السلام و منک السلام.... الخ وغیرہ پر اکتفا کریں اور جن نمازوں کے بعد سنتیں نہیں ان کے بعد لمبی دعا بھی کر سکتے ہیں، البتہ اجتماعی دعا کو زیادہ لمبا نہ کیا جائے، جس سے مسبوقین کو تکلیف پہنچے۔ لما في الدر مع الرد: ’’يكره تأخير السنة إلا بقدر اللھم أنت السلام الخ قال الحلواني لا بأس بالفصل بالأوراد واختاره الكمال... ويستحب أن يستغفر ثلاثا ويقرأ آية الكرسي والمعوذات ويسبح ويحمد ويكبر ثلاثا وثلاثين ويھلل تمام المائة ويدعو ويختم بسبحان ربك‘‘. (كتاب الصلاة، فصل، 300/2، رشيدية). فقط.واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب.

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی

فتویٰ نمبر: