دارالافتاء

عقد اجاره ميں ايك طرف كا كرايہ نہ دينے كا حكم

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے پاس كھىتوں مىں ٹماٹر ہوتے ہىں، جس كو ہم بازار (منڈى) بھىجتے ہىں، اس كے لىے ہم نے گاڑى والے سے ىہ معاہدہ كىا ہوتا ہے كہ ٹماٹر كو منڈى لے جاتے وقت فى كرىٹ كے حساب سے كراىہ مقرر ہے، مگر وہ گاڑى والا جب وہاں سے ان كرىٹوں كو خالى لاىا كرىں تو اس كا كراىہ اس كو نہىں دىتے، ىعنى سپلائى كرتے وقت بھرے كرىٹوں كا كراىہ تو دىا جاتا ہے مگر واپسى پر ان خالى كرىٹوں كا كراىہ نہىں دىا جاتا، تو كىا ہمارا گاڑى والوں كے ساتھ اس طرح كا معاہدہ كر كے نام كرنا درست ہے ىا نہىں؟شرىعت مطہرہ كى روشنى مىں درست

جواب

عناىت فرمائىں، آپ حضرات كے ممنون ہوں گے۔ وضاحت: مستفتى سے پوچھنے پر معلوم ہوا كہ عقد مىں ىہ معاہدہ طے ہوجاتا ہے كہ آنے جانے دونوں كا كراىہ ىہى ہے۔ جواب صورت مسئولہ مىں ذكر كردہ عقد اگر باہمى رضا مندى سے طے پاىا ہے، واپسى پر خالى كرىٹوں كا كراىہ نہ دىنے مىں كوئى حرج نہىں، اس لىے كہ ىہ اسى عقد كا حصہ ہے۔ لما في أحكام القرآن للجصاص: ’’[ياأيها الذين آمنوا لا تأكلوا أموالكم بينكم بالباطل إلا أن تكون تجارة عن تراض منكم] اقتضى إباحة سائر التجارات الواقعة عن تراض...... فتدخل في قوله تعالى: [إلا أن تكون تجارة عن تراض منكم] عقود البياعات والإجارات والهبات المشروطة فيها الأعواض؛ لأن المتغي في جميع ذلك في عادات الناس تحصيل الأعواض لا غير‘‘. (سورة النساء، باب التجارات: 245/2، رشيدية) وفي الدر مع التنوير: ’’(و) تصح (إجارة الدابة للركوب والحمل والثوب للبس‘‘. (كتاب الإجارات، مطلب في أرض المحتكرة: 55/9، رشيدية) وفي البدائع: ’’وأما حكم الإجارة، فهو ثبوت الملك في المنفعة للمستأجر وثبوت الملك في الأجرة للآجر، لأنها عقد معاوضة إذ هي بيع المنفعة، والبيع عقد معاوضة، فيقتضي ثبوت الملك في العوضين‘‘. (كتاب الإجارة، فصل في حكم الإجارة: 36/6، رشيدية). فقط.واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب.

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی

فتویٰ نمبر: 185/276