
تراویح میں قعدہ نہ کرنے کا حکم
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر امام نماز تراویح میں دو رکعت پڑھنے کے بعد قعدہ نہ کرے اور تیسری رکعت کے لیے کھڑا ہو جائے، پھر مقتدیوں کے اللہ اکبر کہنے پر تشہد کی طرف لوٹ آئے تو امام سجدہ سہو کرے یا نہ کرے اور اگر سجدہ سہو نہ کرے، تو کیا وہ تروایح کی دو رکعت درست ہوگئیں؟ یا دوبارہ پڑھنی ہوں گی؟
جواب
واضح رہے کہ اگر امام تراویح کی نماز میں دوسری رکعت میں قعدہ بھول کر کھڑا ہوگیا، تو جب تک تیسری رکعت کا سجدہ نہ کیا ہو تو تشہد کی طرف لوٹ آئے (چاہے یاد آنے سے یا لقمہ ملنے کی وجہ سے) اور باقاعدہ سجدہ سہو کر کے نماز پوری کرلے اور اگر سجدہ سہو نہیں کیا تو نماز دوبارہ پڑھے۔ لمافي التنوير مع الدر: ’’(ولھا واجبات) لا تفسد بتركھا وتعاد وجوبا في العمد والسھو إن لم يسجد له، وإن لم يعدها يكون فاسقا آثما‘‘. (كتاب الصلاة، باب صفة الصلاة، 181/2، رشيدية) وفيه أيضا: ’’(ولو سھا عن القعود الأخير ) كله أو بعضه (عاد)‘‘. (كتاب الصلاة، باب سجود السھو، 664/2، رشيدية) وفي البحر: ’’(وإن سھا عن الأخير عاد ما لم يسجد).... (وسجد للسھو) لتأخيره فرضا وهو القعود الأخير‘‘. (كتاب الصلاة، باب سجود السھو، 181/2، رشيدية) وفي الھندية: ’’وفي رواية إذا قام على ركبتيه لينھض يقعد وعليه السھو ويستوي فيه القعدة الأولى والثانية وعليه الاعتماد‘‘. (كتاب الصلاة، الباب الثاني عشر: في سجود السھو، 275/1، رشيدية). فقط.واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب.
دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی
فتویٰ نمبر:
