
حائضہ کا قرآنی آیات والے وظائف پڑھنے کا حکم
Question
کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام ان مسائل کے بارے میں کہ: ۱ اىك خاتون معلمہ ہے، وہ اىك دىنى مدرسہ مىں جلالىن شرىف پڑھاتى ہىں، تو اىام حىض مىں كىا وہ معلمہ دورانِ درس قرآن كرىم كى آىات پڑھ سكتى ہے؟ ۲ اگر كسى مجلس وعظ مىں وعظ كہنے كے دوران استدلال كے طور پر قرآن كى آىات پڑھ كا موقع آجائے، تو كىا اىام حىض مىں پڑھ سكتى ہے؟ ۳ اسى طرح اپنے گھر والوں ىا سہلىوں سے گفتگو كے دوران اپنى بات پر استدلال كرنے كى غرض سے قرآن كى آىات كو حىض كى حالت مىں پڑھنا چاہے تو كىا پڑھ سكتى ہے؟ ۴ اىام حىض مىں كىا دعائے انس بن مالك پڑھ سكتى ہے؟ (دعائے انس بن مالك كے نام سے جو دعائىں چھپى ہىں، ان مىں سے بعض مىں سورة اخلاص چھ مرتبہ، «أشھد اللہ أنہ لا إلہ إلا اللہ.....» اور «فإن تولوا فقل حسبي اللہ .... » بھى موجود ہے)۔ ۵ بعض عامل حضرات كىنسر كى بىمارى كے لىے قرآن كى سورة الانعام، آىت نمبر 45 ﴿فقطع دابر القوم الذىن ظلموا والحمد للہ رب العالمىن﴾ پڑھنے كو مجرب بتلاتے ہىں، تو كىا عورت اىامِ حىض مىں اس آىت كو مخصوص تعداد مىں پڑھ سكتى ہے؟ اسى طرح مختلف بىمارىوں كا علاج كرنے كى غرض سے قرآن كى آىات كو كىا اىام حىض مىں پڑھ سكتى ہىں؟ (چاہے وہ آىات دعا ىا ثنا پر مشتمل ہوں ىا نہ ہوں) ازراہ کرم مذکورہ بالا مسائل سے متعلق راہنمائی فرمائیں۔
Answer
واضح رہے كہ معلمہ اگر حالت حىض مىں قرآن پاك پڑھانا چاہے تو لفظ لفظ كر كے پڑھا سكتى ہے، اىسے ہى استدلال كے طور پر قرآن پاك پڑھتے وقت لفظ لفظ كر كے پڑھ سكتى ہے، البتہ جو آىات قرآنىہ اور سورتىں آپ نے سوال ذكر كى ہىں، ان سب كو دعا كى نىت سے پڑھنا جائز ہے، البتہ تلاوت قرآن كى نىت سے ان كو پڑھنا جائز نہىں۔ لما في التنوير مع الرد: ’’(وقراءة القرآن) أي ولو دون آية من المركبات لا المفردات، لأنہ جوز للحائض المعلمة تعليقة كلمة كلمة كما قدمنا... (بقصدہ) فلو قرأت الفاتحة على وجہ الدعاء أو شيئا من الآيات التي فيھا معنى الدعاء ولم ترد القراءة لا بأس بہ‘‘. (كتاب الطھارة، باب الحيض، مطلب لو أفتى مفت بشيء....: 535/1، رشيدية) وفي البحر: ’’قولہ: «وقراءة القرآن» أي يمنع الحيض قراءة القرآن.... وھذا كلہ إذا قرأ على قصد أنہ قرآن، أما إذا قرأ على قصد الثناء أو إفتتاح أمر لا يمنع في أصح الروايات‘‘. (كتاب الطھارة، باب الحيض: 346/1، رشيدية) وفي منية المصلي: ’’(ولا يجوز للجنب والحائض والنفساء قراءة القرآن يعني أية تامة، وإن قرأ ما دون الأية أو قرأ الفاتحة على قصد الدعاء، ونحوھا على نية الدعاء يجوز)‘‘. (فروع إن اجتنبت المرأة: 56،57، رشيدية). فقط.واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب.
Dar-ul-Ifta, Jamia Farooqia Karachi
Fatwa No.:
سے متعلق مسائل
مندرجہ بالا موضوع سے متعلق مزید فتاویٰ
