
بيعانہ كا شرعی حکم
Question
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ كرائے دار كو گھر پسند آگىا اس نے مالك مكان كو تىن ہزار روپے بىعانہ دے دىا اور كہا اىك دو دن مىں ہم آكر باقى پىسے دے دىں، دس دن ہوگئے وہ نہىں آئے اب وہ جو تىن ہزار انہوں نے دىے تھے ان كا كىا كىا جائے؟
Answer
صورت مسئولہ میں تىن ہزار روپے مالك مكان كے پاس امانت ہىں، كرائے دار كو دھونڈ كر واپس كرے، اگر نہ ملے تو كرائے دار كے واپس آنے پر مكان مالك پر لوٹانا لازم ہے۔ لما في تنزيل الحميد: ﴿إِنَّ ٱللّٰهَ يَأۡمُرُكُمۡ أَن تُؤَدُّواْ ٱلۡأَمَٰنَٰتِ إِلَىٰٓ أَهۡلِهَا وَإِذَا حَكَمۡتُم بَيۡنَ ٱلنَّاسِ أَن تَحۡكُمُواْ بِٱلۡعَدۡلِۚ ﴾. (سورة النساء، الآية: 58) وفي فقه البيوع: ’’ولا يعتبر هامش عربونا وهذا المبلغ المقدم لضمان الجدية، أما أن يكون للحفظ لدى المؤسسة فلا يجوز لها التصرف فيه‘‘. (الباب الأول: في حقيقة البيع وطرق انعقاده: 117/1، معارف القرآن). فقط.واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب.
Dar-ul-Ifta, Jamia Farooqia Karachi
Fatwa No.:
