
مرضعہ (دودھ پلانے والی) کا تعیین رضیع میں بھولنا اور اس کا حکم
السؤال
کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میری بیوی نے میری بہن کے دو بچوں میں سے ایک کو دودھ دیا ہے، مجھے فون کیا کہ تیری اجازت کے بغیر ان کو دودھ دیا، اب پوچھنا یہ ہے کہ ان دونوں بچوں میں سے ایک کو دودھ دیا لیکن میری بیوی کو یاد نہیں کہ بچے کو دودھ دیا ہے یا بچی کو، میں کہتا ہوں کہ بچی کو دودھ دیا ہے میرا 80 فیصد یقین ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ رضاعت کس کوثابت ہوگی تاکہ ہم شادی وغیرہ کا طریقہ کار بتادیں۔
الجواب
واضح رہے کہ بیوی کا کسی اور کے بچے کو شوہر کی اجازت کے بغیر دودھ پلانا مکروہ ہے، لیکن اگر پلالیا تو رضاعت ثابت ہوجائےگی، مگر اس رضاعت کےعمل کو اپنے پاس لکھ کر محفوظ کرلینا چاہیے، تاکہ رشتوں میں خلط ملط نہ ہو، اوردونوں خاندانوں کو بھی بتادیا جائے۔ لہذا اگر صورت حال حقیقت پر مبنی ہےاور واقعتا آپ کی بیوی کو یاد نہیں ہےکہ بچہ کو دودھ پلایا ہے یا بچی کو تو رضاعت ثابت ہوگئی ہے، البتہ تعیین میں اشتباہ ہے، اس لئے اس بچہ اور بچی سے آپ اپنی اولاد کا نکاح نہ کرائیں۔ لما في صحيح البخاري: عن عقبة بن الحارث رضي الله عنه: ’’أنه تزوج ابنة لأبي إهاب بن عزيز، فأتته امرأة فقالت: إنى قد أرضعت عقبة،والتى تزوج بها، فقال لها عقبة: ما أعلم أنك أرضعتني، ولا أخبرتني، فركب إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم بالمدينة فسأله، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: (( كيف وقد قيل؟)) ففارقها عقبة ونكحت زوجا غيره‘‘.(كتاب العلم، باب الرحلة في المسئلة النازلة إلخ، رقم الحديث: 88، دارالسلام) و فيه أيضا: عن عامر، قال: سمعت النعمان بن بشير رضي الله عنه يقول: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: ’’الحلال بين والحرام بين، وبينهما مشبهات لا يعلمها كثير من الناس، فمن اتقى المشبهات استبرأ لدينه وعرضه، ومن وقع في الشبهات كراع يرعى حول الحمى، يوشك أن يواقعه إلخ‘‘.(كتاب الإيمان، باب فضل من استبرأ لدينه، رقم الحديث:52، دار السلام) و في الأشباه : ’’ ومنها لو إشتبه محرمة بأجنبيات محصورات لم يحل‘‘.(القاعدة الثانية: إذا اجتمع الحلال والحرام غلب الحرام، 262/1، رشيدية) وفي البحر الرائق: ’’وفي الخانية من الحظر والإباحة: امرأة ترضع صبيا من غير إذن زوجها يكره لها ذلك، إلا إذا خافت هلاك الرضيع فحينئذ لا بأس به‘‘.(كتاب الرضاع: 387/3، رشيدية) وفي المحيط البرهاني: ’’ولا يقبل في الرضاع إلا شهادة رجلين أو شهادة رجل وامرأتين عدول...صبية أرضعتها بعض أهل القرية، و لا يدري من أرضها من النساء، فزوجها رجل من أهل تلك القرية، فهو في سعة من المقام معه في الحكم؛لأنه لم يظهر المانع‘‘.(كتاب النكاح، الفصل الثالث عشر إلخ: 103/4، الرشد). فقط.واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب.
دار الإفتاء، جامعة فاروقية كراتشي
رقم الفتوى: 189/68
