دار الإفتاء

طلبہ کے نام پر مفت قرآن مجید لے کر قیمتاً بیچنا

السؤال

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک عالم دین نے اہل خیر حضرات میں سے کسی سے مدرسے کے طلباء کے لیےپچاس قرآن مجید ہدیہ لینے کی درخواست کی، اس شخص نے اتنے ہی قرآن مجید خرید کر عالم دین کو دے دیے، اب آگے اس عالم دین نے ان قرآن کریم کو طلباء کرام پر فی قرآن سو سو روپے کے حساب سےبیچ دیے، تو اس پر بعض دیگر علماء کرام نے اعتراض کر لیا کہ اس طرح کرنا ٹھیک نہیں، اس پر اس عالم نے کہا کہ میں ان رقوم سے سال کے آخر میں طلباء کے لیے دعوت کروں گا۔ اب پوچھنا یہ ہے کہ کیا اس طرح سے طلباء کے نام پر مفت قرآن وصول کر کے پھر آگے قیمتا طلباء پر بیچنا جائز ہے؟ یہ بھی واضح فرمائیں کہ مذکورہ عالم دین کا سال کے آخر میں دعوت کرنے والا عذر پیش کرنا درست ہے؟ وضاحت: مستفتی سے پوچھنے پر معلوم ہو اکہ عالم دین جو پیسے لے رہا ہے وہ بطور ثمن وقیمت کے ہیں۔

الجواب

صورت مسئولہ میں اگر واقعتا صورت حال وہی ہے جوسوال میں ہے اور اس میں غلط بیانی سے کام نہیں لیا گیا ہے، تو طلبہ کے نام پر لے گئے قرآن مجید عالم دین کے پاس بطور امانت ہیں اورا مانت کو اس کے اصل حق دار تک پہنچانا ضروری ہے، اس لیے عالم دین کا قرآن مجید کے بدلے طلبہ سے پیسے لینا درست نہیں ہے، بلکہ واپس کرنا ضروری ہے۔ لما في التنزيل: ﴿ان الله يأمر كم ان تودوا الامنت الى اھلھا﴾. (سورۃ النساء، رقم الاية: 58) وفي مسند أبي يعلى: عن أبي حرة الرقاشى، عن عمه أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: ’’لا يحل مال امري، مسلم الا بطيب نفسه منه‘‘. (مسند ابي حرة الرقاشى عن النبي، رقم الحديث:1571، ص:363، دار المعرفة) وفي البحر الرائق: ’’لا يجوز لأحد من المسلمين أخذ مال أحد بغير سبب شرعي‘‘. (كتاب الحدود، باب حد القذف، 68/5، رشيدية). فقط.واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب.

دار الإفتاء، جامعة فاروقية كراتشي

رقم الفتوى: