دار الإفتاء

حكومتی جگہ كرايہ پر لے كر مدرسہ كے بچوں كو پڑھانا اور مدرسہ تعمير كرنا

السؤال

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ زىد كو حكومت كى جانب سے اىك كوارٹر رہنے كے لىے دىا گىا تھا وہ حكومت كے ملازم تھے۔ ىہ كوارٹر ان كورہنے كے لىے دىا گىاتھا جس كا كراىہ ان كى تنخواہ سے كٹتا تھا۔ ان كو جو ڈاكومنٹ دىے گئے تھے، اس مىں ان كو ىہ بتاىا گىا تھا كہ وہ ان سٍے واپس لىا جائے گا اگر ان كا ٹرانسفر ہوتا ہے ىا وہ رىٹائرڈ ہوتے ہىں۔ كچھ عرصے كے بعد زىد اس كوارٹر كو بكر كے حوالے كردىتے ہىں كىوں كہ بكر اىك مدرسہ چلانا چاہتے ہىں۔ زىد بكر كو اىك ڈاكومنٹ دىتے ہىں جس مىں ىہ لكھا جاتا ہے كہ وہ اپنا ىہ كوارٹر بكر كو دىنى خدمت كے لىے دے رہے ہىں، تا كہ اس مىں بچے اور بچىاں قرآن كى تعلىم حاصل كرىں اور اس مىں ىہ بھى اجازت دى گئى ہے كہ چونكہ عمارت كافى پرانى ہے، لہذا اس مىں تعمىراتى كام بھى كروالىا جائے۔ بكر اس كوارٹر مىں مدرسہ قائم كرلىتے ہىں اور اس كا الحاق تعلیمی بورڈ سے بھى كروا لىتے ہىں۔ وہ اس مىں اىك چھوٹى سى دوكان بھى كھول لىتے ہىں جس كے منافع كا بىشتر حصہ اس مدرسہ مىں ہى لگ جاتا ہے، اس جگہ كا كراىہ وہ زىد كو بھى دىتے ہىں اور اس مدرسہ كے استاد كى تنخواہىں، بجلى اور گىس كے بل بھى ادا كرتے ہىں اور بچوں سے تھوڑى بہت فىس بھى لىتے ہىں۔ اب چونكہ عمارت كافى پرانى ہوچكى ہے اور جگہ بھى تنگ ہوگئى ہے لہذا اس كوارٹر كو گرا كر اىك منزلہ عمارت قائم كرنا چاہتے ہىں جس مىں گراؤنڈ فلور پر لڑكے اور پہلے فلور پر لڑكىاں ناظرہ، حفظ اور تفسىر قرآن پڑھىں گے۔ اب معلوم یہ کرنا ہے کہ كىا حكومت كى اس جگہ پر جو كہ زىد كو رہنے كے لىے دى گئى تھى اور جس كا وہ كراىہ بھى بكر سے لىتے ہىں وہاں مدرسہ قائم كىا جاسكتا ہے؟ نیزكىا اس كوارٹر كو گرا كر اس مىں باقاعدہ مدرسہ بناىا جاسكتا ہے؟ اسی طرح بہت سے لوگوں نے اس علاقے مىں اپنے كوارٹروں كو جو كہ حكومت نے ان كو رہائش كے لىے دىے تھے، دو اور تىن منزلوں تك بنا لىا ہے بغىرحكومت كى اجازت حاصل كئے، تو كىا اس بنىاد پر مدرسہ بھى بناىا جاسكتا ہے؟ اور جو لوگ اس مدرسہ كى تعمىر مىں تعاون كرىں گے ان كے عمل كىا اللہ تعالى كے ىہاں مقبول ہوں گے؟ برائے مہربانى رہنمائى فرمائىں۔ وضاحت: مستفتى سے پوچھنے پر معلوم ہوا كہ حكومت نے زىد كو كوارٹر رىٹائرڈ ہونے تك دىا ہے اب زىد رىٹائرڈ ہوچكا ہے، لىكن ابھى تك كوارٹر حكومت كو واپس نہىں كىا ہے، اور حكومت كے طرف سے كسى كو تصرف كرنے كى اجازت نہىں ہے، سوائے اس کے كہ حكومت سے باقاعدہ اجازت لىں، حكومت زىد سے اب بھى كراىہ وصول كرتى ہے؟

الجواب

صورت مسئولہ مىں حكومت كى اجازت سے مذكورہ كوارٹر كو كراىہ پر لے كر اس مىں بچوں اور بچىوں كو تعلىم دىنا درست اور باعث اجر وثواب ہے، نىز جب تك حكومتى ادارے منع نہىں كرتے اس مىں تعمىر اور تعاون كى گنجائش ہے۔ لما في تفسير روح المعاني: ’’[ولا تعاونوا على الإثم والعدوان] فيعم النهي كل ما هو من مقولة الظلم والمعاصي ويندرج فيه النهي عن التعاون على الاعتداء والانتقام وعن ابن عباس رضي الله عنهما وأبي العالية أنهما فسرا الإثم بترك ما أمرهم به وارتكاب ما نهاهم عنه‘‘. (سورة المائدة، رقم الآية:2، 27/7، مؤسسة الرسالة) وفي التنوير مع الدر: ’’(تصح إجارة حانوت) أي دكان (ودار بلا بيان ما يعمل فيها) لصرفه للمتعارف (و) بلا بيان (من يسكنها) فله أن يسكنها غيره بإجارة وغيرها .... (وله الكسنى بنفسه وإسكان غيره بإجارة وغيرها) وكذا كل ما لا يختلف بالمستعمل يبطل التقييد لأنه غير مفيد، بخلاف ما يختلف به كما سيجئ، ولو آجر بأكثر تصدق بالفضل إلا في مسألتين: إذا آجرها بخلاف الجنس أو أصلح فيها شيئا‘‘. (كتاب الإجارة، باب ما يجوز من الإجارة وما يكون خلافًا فيها أي في الإجارة: 46/9، رشيدية) وفي بدائع الصنائع: ’’وأما بيان ما يستأجر له في هذا النوع من الإجارة أعنى إجارة المنازل ونحوها فليس بشرط حتى لو استأجر شيئا من ذلك ولم يسم ما يعمل فيه جاز وله أن يسكن فيه نفسه ومع غيره وله أن يسكن فيه غيره بالإجارة والإعارة وله أن يضع فيه متاعًا وغيره‘‘. (كتاب الإجارة، فصل في شرائط الركن: 546/5، رشيدية) وفي الدر المختار: ’’لا يجوز التصرف في مال غيره بلا إذنه‘‘. (كتاب الغصب، مطلب فيما يجوز من التصرف بمال الغير: 334/9، رشيدية) وفي الأشباه والنظائر: ’’لا يجوز التصرف في مال غيره بغير إذنه ولا ولاية‘‘. (الفن الثاني، كتاب الغصب: 427/2، رشيدية). فقط.واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب.

دار الإفتاء، جامعة فاروقية كراتشي

رقم الفتوى: