
جديد یا عام واشنگ مشين ميں ناپاك اور پاك كپڑے دھونے كا حكم؟
السؤال
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے ہاں جو مشىنىں ہوا كرتى ہىں كپڑے دھونے كى ان مىں كبھى كبھى ناپاك كپڑے ڈال دئے جاتے ہىں، اور مشىن بھى دو قسم كى ہوا كرتى ہىں، اىك عام سادہ مشىن جس مىں صرف اىك مرتبہ پانى ڈالا جاتا ہے اور آخر تك اس وہى پانى رہتا ہے پھر آخر مىں كپڑے نكال كر كھنگالے جاتے ہىں، جب كہ دوسرى قسم كى جو مشىن ہوا كرتى ہىں جو الىكٹرونك جو آج كل مشہور ہے اس مىں صرف كپڑے ڈالے جاتے ہىں اور وہ خود پانى بھرتا ہے اور نكالتا ہے اور تىن چار مرتبہ پانى لے كر پھىنك دىتا ہے پھر آخر مىں خشك كرتا ہے۔ تو اب درىافت طلب امر ىہ ہے كہ ناپاك كپڑوں كا كىا حكم ہے آىا وہ پاك ہوجاتے ہىں ىا نہىں؟ نیز ناپاك كپڑوں كے ساتھ جو پاك كپڑے ہىں اب آىا وہ پاك ہى رہىں گے ىا نا پاك ہوجائىں گے؟
الجواب
واضح رہے كہ نا پاك كپڑے كو پاك كرنے كے لىے ضرورى ہے كہ ہر مرتبہ اس كو پاك پانى سے دھو كر نچوڑا جائے، لہذا صورت مسئولہ مىں ابتداء دونوں مشىنوں كے كپڑے نا پاك ہوجاتے ہىں مگر چوں كہ آٹو مشىن (جدىد مشىن) خود بخود اپنى سىٹنگ كے مطابق پانى لىتى ہے اور ہر مرتبہ كپڑے كو نچوڑ كر پانى نكالتى ہے لہذا جب تىن مرتبہ اىسا كرے تو كپڑے پاك ہوجائىں گے اور اس كے بعد مشىن كو پاك كرنے كے لىے ضرورى ہے كہ اس كو اىك مرتبہ دھوىا جائے، پھر نئے كپڑے ڈالے جائىں اور جو عام مشىنىں ہىں ىہ چونكہ پانى تبدىل نہىں كرتىں اور نہ ہی نچوڑتى ہىں، لہذا كپڑوں كو مشىن سے نكالنے كے بعد تىن مرتبہ دھوىا جائے اور ہر مرتبہ نچوڑا جائے تو پاك ہوجائىں گے اور ىہ مشىن اس وقت پاك ہوگى جب اس كو صاف پانى سے مزىد دو مرتبہ دھوىا جائے۔ لما في المحيط البرهاني: ’’يجب أن يعلم أن إزالة النجاسة واجبة. قال تعالى: ﴿وَٱلرُّجۡزَ فَٱهۡجُرۡ﴾. وقال الله تعالى: ﴿وَثِيَابَكَ فَطَهِّرۡ﴾. وإزالتها إن كانت مرئية بإزالة عينها وأثرها إن كانت شيئا يزول أثره .... وإن كانت غير مرئية كالبول والخمر، ذكر في الأصل وقال: يغسلها ثلاث مرات ويعصر في كل مرة فقد شرط الغسل ثلاث مرات وشرط العصر في كل مرة‘‘. (كتاب الطهارات، الفصل الثامن في تطهير النجاسات: 376/1، بیروت) وفي ملتقى الأبحر: ’’وطهارة المرئي بزوال عينه ويعفى أثر شق زواله وغير المرئي بالغسل ثلاثًا والعصر كل مرة إن أمكن عصره وإلا فيطهر بالتجفيف كل مرة حتى ينقطع التقاطر‘‘. (كتاب الطهارة: 90/1، غفارية) وفي الهندية: ’’وإزالتها إن كانت مرئية بإزالة عينها وأثرها إن كانت شيئا يزول أثره .... وإن كانت غير يغسلها ثلاث مرات، كذا في المحيط ويشترط العصر في كل مرة فيما ينعصر ويبالغ في المرة الثالثة حتى لو عصر بعده لا يسيل منه الماء ويعتبر في كل شخص قوته‘‘.(کتاب الطھارۃ، بیروت) وفي التنوير مع الدر: ’’(وقدر بغسل وعصر ثلاثًا فيما ينعصر وبتثليث جفاف في غيره) أي: غير منعصر مما يتشرب النجاسة وإلا فبقلعها كما مر، وهذا كله إذا غسل في إجانة‘‘. (کتاب الطھارۃ، رشیدیۃ). فقط.واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب.
دار الإفتاء، جامعة فاروقية كراتشي
رقم الفتوى:
;" > طہارت
مندرجہ بالا موضوع سے متعلق مزید فتاویٰ
