
ایک ہزار کی آبادی والے گاؤں میں جمعہ کا حکم
السؤال
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک گاؤں میں تین مساجد ہیں، ایک مسجد میں تقریبا تین سال سے نماز جمعہ ہو رہی ہے، اور اس گاؤں کی آبادی تقریبا 1000 ہے، اور90/95 مکان، تین دکانیں ایک پرائمری اسکول اور ایک عدد ڈسپنسری ہے اور لوگ کھیتی زراعت اور اکثر گاؤں سے باہر دوسرےشہروں یا ملکوں میں مزدوری اور کاروبار کرتے ہیں، جب کہ اس گاؤں میں دوسرا جمعہ بھی ایک سال سے پڑھایا جاتا ہے۔ کیا اس گاؤں میں جمعہ جاری رکھنا ہے یا روک دینا ہے اور گاؤں کے لوگوں پر جمعہ واجب ہے یا ظہر کی نماز؟ نیز اگر جمعہ کو برقرار رکھا جائے تو نماز ظہر کا کیا حل ہوگا؟ شریعت کی روشنی میں مسئلہ واضح فرمائیں۔ نوٹ: ایک بات قابل ذکر ہے کہ بعض علماء شدید فتنے کی بنیاد پر جمعہ جاری رکھنے کے قائل ہیں، برائے مہربانی شدید فتنے کی وضاحت عام الفاظ میں کر کے ہمیں مطلع فرمائیں۔
الجواب
واضح رہے کہ نماز جمعہ کے جواز اور صحت کے لیے حضرات رحمہم اللہ نے مصر، فنائے مصر اور قریہ کبیرہ کا ہونا شرط قرار دیا ہے، جب کہ قریہ صغیرہ میں حضرات احناف رحمہم اللہ کے نزدیک نماز جمعہ جائز نہیں، البتہ قریہ کبیرہ میں چند شرائط اور علامات پائی جائیں، تو اس میں نماز جمعہ جائز ہے۔ چناں چہ عصر حاضر میں بڑے گاؤں کی علامت یہ ہیں کہ اس کی آبادی چار ہزار یا اس سے زیادہ ہوں، مختلف محلے ہوں، گلی کوچے ہوں، کثرت سے دکانیں ہوں، جو بازار کی شکل میں ہوں اور اس میں رہنے والے لوگوں کے لیے ضروریات زندگی کی تمام اشیاء میسر ہوں۔ لہذا صورت مسئولہ میں ذکر کردہ گاؤں میں بظاہر جمعہ کی شرائط نہیں پائی جارہی ہیں، اس لیے وہاں جمعہ نہ پڑھا جائے اور بہتر یہ ہے کہ وہاں کے مستند علمائے کرام جو فقہ اور فتوی میں مہارت رکھتے ہوں، ان کو گاؤں کا معائنہ کرایا جائے، پھر ان کے فتوی پر عمل کیا جائے، ان شاء اللہ کوئی فتنہ نہیں ہوگا۔ لما في التنوير مع الدر: ”(ويشترط لصحتھا) سبعة أشياء الأول (المصر وهو ما لا يسع أكبر مساجده أهله المكلفين بھا) وعليه فتوى أكثر الفقهاء“. (كتاب الصلاة، باب الجمعة، 6/3، رشيدية) وتحته في الرد: ”على ما صرح به في التحفة عن أبي حنيفة أنه بلدة كبيرة فيھا سكك وأسواق ولھا رساتيق وفيھا وال يقدر على إنصاف المظلوم من الظالم بحشمته وعلمه أو علم غيره يرجع الناس إليه فيما يقع من الحوادث“. (كتاب الصلاة ، باب الجمعة، 6/3، رشيدية) وفي التاتار خانية: ”وفي العتابية: لو صلى الجمعة في قرية بغير مسجد جامع، والقرية كبيرة لھا قرى وفيھا والى وحاكم، جازت الجمعة بنوا المسجد أو لم يبنوا، و إن كان بخلاف ذلك لا يجوز، وهو قول أبي القاسم الصغار ، وهذا أقرب الأقاويل إلى الصواب“. (كتاب الصلاة، الفصل الخامس والعشرون في صلاة الجمعة، 548/2، فاروقية). فقط.واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب.
دار الإفتاء، جامعة فاروقية كراتشي
رقم الفتوى:
