
اجتماعی وراثت کو کسی وارث کا کاروبار میں لگانا یا جگہ خریدنا
السؤال
کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اجتماعی وراثت سے نیا کاروبار یا نئی جگہ خرید لی گئی تو یہ سب ورثاء کی ہوگی یا صرف خریدنے والے کی ہوگی؟
الجواب
اصل مسئلہ سے پہلے بطور تمہید یہ بات سمجھ لیں کہ اجتماعی مال میں ہر ایک شریک کا اپنے حصہ کے بقدر اس سے نفع اٹھانا درست ہے، دیگر شرکاء کے حصہ میں ان کی اجازت کے بغیر تصرف کی اجازت نہیں ہے۔ لہذا صورت مسئولہ میں اگر ایک وارث تمام مال کو دیگر وارثوں کی اجازت کے بغیر کسی کاروبارمیں لگا دے یا نئی جگہ خرید لے، تو یہ کاروبار اور نئی جگہ خریدنے والے کی شمار ہوگی، اور یہ دوسرے وارثوں کے لیے ان کے حصوں کے بقدر ضامن ہوگا، کاروبار اور نئی جگہ سے نفع اٹھانا اس کے لیے اس وقت تک جائز نہیں ہوگا جب تک دوسرے وارثوں کا حصہ ادا نہ کرے، اور اگر یہ کام اجازت سے سب شرکاء کے لیے کیا ہے تو سب ورثاء اس میں شریک ہوں گے۔ لما في الھداية: ’’فشركة الإملاك العين يرثھا رجلان أو يشتريانھا، فلا يجوز لاحدهما أن يتصرف في نصيب الآخر إلا بأذنه، وكل واحد منھما في نصيب صاحبه كالاجنبي‘‘. (كتاب الشركة، 361/4، البشرى) وفي مجلة الاحكام: ’’كل واحد من الشركاء في شركة الملك أجنبي في حصة الآخر، ولا يعتبر أحد وكيلا عن الآخر، فلذلك لا يجوز تصرف أحدهما في حصة الآخر إلا بأذنه‘‘. (الفصل الثاني في بيان كيفية التصرف في الاعيان، ص: 301، رقم المادة:1092، دار ابن حزم) وفيه أيضا: ’’تكون اعيان المتوفي مشتركة بين وارثيه على حسب حصصھم‘‘. (الفصل الثالث: في بيان الديون المشتركة، ص: 305، رقم المادة:1092، دار ابن حزم) وفي رد المحتار: ’’يقع كثيرا في الفلاحين ونحوهم أن أحدهم يموت فتقوم أولاده على تركته بلأقسمة ويعملون فيھا من حرث وزراعة وبيع وشراء واستدانة ونحو ذلك، وتارة يكون كبير هم هو الذى يتولى مھماتھم ويعملون عنده بأمره وكل ذلك على وجه الاطلاق والتفويض..... وما اشتراه أحدهم لنفسه يكون له ويضمن حصة شركائه من ثمنه إذا دفعه من المال المشترك، وكل ما استدانة أحدهم يطالب به وحده‘‘. (كتاب الشركة، مطلب فيما يقع كثير في الفلاحين مما صورته شركة مفاوضة، 472/6، رشيدية) وفي تنقيح الحامدية: ’’مات رجل وترك أولادا صغاراً وكباراً وامرأة والكبار منھا..... واتفقت الأجوبة انھم زرعوا من بذر مشترك بينھم بأذن الباقين لو كباراً أو أذن الوصي لو صغارا فالغلة مشتركة وإن من يذر انفسھم أو بدر مشترك بلااذن فالغلة للزارعين‘‘. (94/1، رشيدية). فقط.واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب.
دار الإفتاء، جامعة فاروقية كراتشي
رقم الفتوى: 181/234
