دارالافتاء

کیا شوہر کو سونا ہدیہ کر دینے سے قربانی ساقط ہوجاتی ہے؟

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر کسی عورت کے ملکیت میں اتنا سونا ہو کہ جس سے قربانی واجب ہوتی ہو، پھر وہ عورت اپنے شوہر سے کہتی ہے کہ یہ سونا میں نے آپ کو ہدیہ کیا ہے یا بخش دیا ہے، یعنی سونا آپ کا ہو گا میں صرف استعمال کرتی ہوں، کیا اس طرح کرنے سے قربانی معاف ہو جاتی ہے یا نہیں رہنمائی فرمائیں، یا اگر کوئی اور صورت ہو، تو بتادیں۔ شکریہ۔

جواب

اللہ تعالی نے اہل ایمان پر جو عبادات لازم کی ہیں ان میں ایک اہم عبادت قربانی بھی ہے، اور یہ صاحب استطاعت پر اللہ نے واجب کی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس کے پاس گنجائش ہو اور وہ قربانی نہ کرے، تو وہ ہماری عید گاہ کے قریب بھی نہ آئے، اس لئے قربانی واجب ہونے کے بعد قربانی نہ کرنے والا فاسق اور سخت گنہگار ہے، لہذا جس پر قربانی واجب ہے، وہ قربانی کے ایام میں قربانی کا جانور ذبح کر کے ہی اس مریضہ سے سبکدوش ہو گا، اس عظیم فریضے کی ادائیگی سے بچنے کے لئے بغیر کسی عذر و مجبوری کے حیلہ اختیار کرنا مکروہ تحریمی ہے، لیکن اگر کوئی خاتون ایسا حیلہ اختیار کرتی ہے، تو قربانی ساقط ہو جائے گی، مگر ایسا کرنا گناہ ہو گا، ہاں اگر بیوی واقعی سونا شوہر کو ہدیہ کر دیتی ہے اور پھر واپسی کا مطالبہ نہیں کرتی، تو اس کی گنجائش ہے۔ لما في سنن ابن ماجه: حدثنا أبو بكر بن أبي شيبة، حدثنا زيد بن الحباب حدثنا عبد الله بن عياش عن عبد الرحمن الأعرج عن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال: ’’من كان له سعة ولم يضح فلا يقربن مصلانا‘‘.(أبواب الأضاحي، باب الأضاحي هي واجبة أم لا، رقم الحديث:3123، ص:474، دار السلام) وفي الھداية: ’’الأضحية واجبة على كل حر مسلم مقيم موسر في يوم الأضحى عن نفسه وعن ولده الصغار‘‘. (كتاب الأضحية: 199/4، دار الدقاق) وفي التنوير مع الدر والرد: ’’(وحكمھا الخروج عن عھدة الواجب) في الدنيا (والوصول إلى الثواب) بفضل الله تعالى (في العقبى) مع صحة النية إذ لا ثواب بدونھا (فتجب) التضحية أي إراقة الدم من النعم عملا لا اعتقادا وتحته في الشامية: وحكمه: اللزوم عملا كالفرض لا علما على اليقين للشبھة، حتى لا يكفر جاحده ويفسق تاركه بلا تأويل‘‘. (كتاب الأضحية: 521/9، رشيدية) وفي الھندية: ’’وأما حكمھا فالخروج عن عھدة الواجب في الدنيا والوصول إلى الثواب بفضل الله تعالى في العقبى كذا في الغياثية والموسر في ظاهر الرواية من له مائتا درهم أو عشرون دينارا أو شيء يبلغ ذلك سوى مسكنه ومتاع مسكنه ومركوبه وخادمه في حاجته التي لا يستغني عنھا فأما ما عدا ذلك من سائمة أو رقيق أو خيل أو متاع لتجارة أو غيرها فإنه يعتد به من يساره وإن كان له عقار ومستغلات ملك اختلف المشايخ المتأخرون رحمهم الله تعالى فالزعفراني والفقيه علي الرازي اعتبرا قيمتھا وأبو علي الدقاق وغيره اعتبروا الدخل واختلفوا فيما بينھم قال أبو علي الدقاق إن كان يدخل له من ذلك قوت سنة فعليه الأضحية ومنھم من قال قوت شھر ومتى فضل من ذلك قدر مائتي درهم فصاعدا فعليه الأضحية وإن كان العقار وقفا عليه ينظر إن كان قد وجب له في أيام الأضحى قدر مائتي درهم فصاعدا فعليه الأضحية‘‘. (كتاب الأضحية الباب الأول: 33/5، دار الفكر). فقط.واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب.

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی

فتویٰ نمبر: