
کسی شخص نے مجبوراً دعوت کی ہو تو اس میں شرکت کرنا
سوال
کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید کو عمر نے ولیمہ کی دعوت دی، اور زید دعوت میں شریک نہ ہو سکا، اس کی وجہ بظاہر یہ تھی کہ عمر نے خود اس بات کی وضاحت کی کہ میرے بس میں دعوت کرنے کی گنجائش نہیں تھی، لیکن لوگوں کی وجہ سے ادھار لے کردعوت کرنی پڑ رہی ہے۔کیا زید کا مذکورہ بالا وجہ سے دعوت میں شریک نہ ہو نا درست ہے یا نہیں؟
جواب
ولیمہ کی دعوت بقدر وسعت مسنون ہے۔ اس کے لئے کسی کو اس طرح مجبور کرنا کہ وہ قرضہ لے کر بھی دعوت کرے جائز نہیں۔ لہٰذا صورت مسئولہ میں بھی اگر عمر نے مجبور ادعوت کی ہے تو اس میں شرکت نہ کرنا بہتر ہے۔ لما في مشكوة المصابيح: وعن أبي حرة الرقاشي عن عمه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ”ألا تظلموا ألا لا يحل مال امرئ إلا بطيب نفس منه“. (كتاب البيوع، باب الغضب والعارية، الفصل الثاني، 255، قديمي) وفي الصحيح لمسلم: ”حدثنا أبو الربيع الزهراني وأبو كامل فضيل بن حسين وقتيبة بن سعيد قالوا حدثنا حماد وهو بن زيد عن ثابت عن أنس وفي رواية أبي كامل سمعت أنسا قال: ما رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم أولم على امرأة وقال أبو كامل على شيء من نسائه ما أولم على زينب فإنه ذبح شاة“. (كتاب النكاح، رقم الحديث:3504، دار السلام) وفي الصحيح لمسلم: ”حدثنا محمد بن عمرو بن عباد بن جبلة بن أبي رواد ومحمد بن بشار قالا: حدثنا محمد وهو ابن جعفر حدثنا شعبة عن عبد العزيز بن صھيب قال: سمعت أنس بن مالك يقول: ما أولم رسول الله صلى الله عليه وسلم على امرأة من نسائه أكثر أو أفضل مما أولم على زينب. فقال ثابت البناني بما أولم قال أطعمھم خبزًا ولحمًا حتى تركوه“. (كتاب النكاح، رقم الحديث: 3504، دار السلام). فقط.واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب.
دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی
فتویٰ نمبر: 179/297
