
مسبوق قعدہ اخیرہ میں تشہد کس طرح پڑھے؟
سوال
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ مسبوق قعدہ آخیر میں تشہد کس طرح پڑھیں کہ تشہد کے ختم ہونے کے بعد خاموش رہے یا دوبارہ پڑھے، یا کیا کرے۔
جواب
صورت مسئولہ میں مسبوق قعدہ اخیرہ میں صرف التحیات ہی پوری کرے، درود شریف اور دعانہ پڑھے، بہتر تو یہ ہے کہ وہ اس قدر آہستہ التحیات پڑھے کہ امام کے فارغ ہونے تک اس کی التحیات ہی پوری ہو، اگر امام سے پہلے التحیات سے فارغ ہو جائے تو ”اشھد ان لا إله الا الله“ مکرر پڑھتا رہے۔ لما في الھندية: ’’أن المسبوق ببعض الركعات يتابع الإمام في التشھد الأخير، وإذا أتم التشھد لا يشتغل بما بعده من الدعوات ثم ماذا يفعل تكلموا فيه وعن ابن شجاع، أنه يكرر التشھد أي قوله: ”أشھد أن لا إله إلا الله“ وهو المختار كذا في الغياثية، والصحيح أن المسبوق يترسل في التشھد حتى يفرغ عند السلام الإمام‘‘.(كتاب الصلاة، الباب الخامس في الإمام، الفصل السابع في المسبوق والاحق: 149/1، دار الفكر). فقط.واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب.
دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی
فتویٰ نمبر:
مسبوق کے احکام
مندرجہ بالا موضوع سے متعلق مزید فتاویٰ
