دارالافتاء

رضاعى دىور اور رضاعى ماموں سے نكاح كرنا

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ دوحقىقى بہنیں ہىں ایک (الف) ہے اور دوسرى كا نام (ب) ہے ۔(ب) چوں كہ شادى شدہ تھى، جنہوں نے اپنى حقىقى بہن (جن كى عمر سات ىا آٹھ مہىنے كى تھى) (الف) كو دودھ پلایا تھا۔ كچھ عرصہ بعد (الف) كى بھى شادى ہوئى اس كى حقىقى بہن (ب) كے شوہر كے حقىقى بھائى كے ساتھ اور ان سے اولاد بھى ہوئى ہىں۔ تو كىا ىہ نكاح ٹھىك ہے اور اس نكاح كو برقرار ركھا جائے ىا ىہ كہ نكاح درست بہن ہے اور مىاں بىوى كے درمىان جدائى كا معاملہ اختىار كىا جائے۔ نىز اگر ىہ نكاح درست اور صحىح ہے تو كىا (ب) اپنے بىٹے (عبد اللہ) كا نكاح (الف) كى بىٹى (زبىدہ) كے ساتھ كراسكتا ہے ىا نہىں؟

جواب

صورت مسئولہ مىں (ب) كا دىور (الف) كا رضاعى چچا ہے جس طرح نسبى چچا سے بھىتجى كا نكاح جائز نہىں اسى طرح رضاعى چچا سے بھى جائز نہىں، لہذا دونوں پر لازم ہے كہ اىك دوسرے سے علىحدہ ہوجائىں، باقى جو بچے ہىں ان كا نسب ثابت ہوگا۔ اور چونكہ عبد اللہ، زبىدہ كا رضاعى ماموں ہے اس لىے ان دونوں كا نكاح آپس مىں جائز نہىں۔ لما في الصحيح لمسلم: ’’عن عائشة رضي اللہ عنھا أنھا أخبرتہ أن عمتھا من الرضاعة يسمى أفلح استأذن عليھا، فحجبتہ فأخبرت رسول اللہ صلى اللہ عليہ وسلم، فقال لھا: لا تحتجبي منہ فإنہ يحرم من الرضاعة ما يحرم من النسب‘‘. (كتاب الرضاع، باب تحريم الرضاعة من ماء الفحل، ص: 612، دار السلام) وفي البدائع عن الأصل: ’’إذا تزوج صغيرة فارضعتھا أمہ من النسب أو من الرضاع حرمت عليہ؛ لأنھا صارت أختا لہ من الرضاع، فتحرم عليہ كما في النسب، وكذا إذا أرضعتھا أختہ أو بنتہ من النسب أو من الرضاع؛ لأنھا صارت بنت أختہ أو بنت بنتہ من الرضاع، وأنھا تحرم من الرضاع كما تحرم من النسب‘‘. (كتاب الرضاع، فصل في صفة الرضاع المحرم: 97/5، رشيدية). فقط.واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب.

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی

فتویٰ نمبر: