
بیٹے کے اکاؤنٹ میں رقم رکھنے کا حکم
سوال
کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ والد صاحب نے کسی ایک بیٹے کے اکاؤنٹ میں رقم رکھی تو یہ رقم رکھنے سے اس بیٹے کی ہو جائیگی یا باقی بہن، بھائیوں کا بھی اس میں حصہ ہو گا؟ اور یہ رقم والد صاحب نے اپنی حیات میں رکھی تھی۔
جواب
صورت مسئولہ میں بیٹے کے اکاؤنٹ میں یہ رقم بطور تعاون (ہدیہ) کے رکھی ہے، تو وہ ان پیسوں کا مالک ہے، اس میں دیگر بہن، بھائیوں کا حصہ نہیں ہو گا۔ اور اگر اکاؤنٹ میں یہ رقم بطور قرض یا ودیعت یا بغیر کسی تصریح کے رکھی ہے، تو یہ مال متروکہ ہے، اور اس میں ورثاء بقدر حصص شرعیہ شریک ہوں گے۔ لما في شرح المجلة: ”ومن وهب لأصوله وفروعه......... شيئا فليس له الرجوع“. (الكتاب السابع، الباب الثالث، المادة:866: 476/1، دار الكتب العلمية) وفي مجلة الأحكام: ”أن أعيان مال المتوفى المتروكة مشتركة بين الورثة على حسب حصصھم“ . (الكتاب العاشر، الفصل الثالث، المادة:1092، ص:305، دار ابن حزم) وفي در الحكام: ”تكون أعيان المتوفى المتروكة مشتركة بين وارثيه على حسب حصصھم، كذلك يكون الدين الذي له في ذمة آخر مشتركا بين وارثيه على حسب حصصھم“. (الكتاب العاشر، الفصل الثالث، المادة:1092، 50/3، دار الكتب العلمية). فقط.واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب.
دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی
فتویٰ نمبر: 181/232
